نئی دہلی12مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)گزشتہ سال جنوری میں مسلح کچھ دہشت گرد پنجاب کے پٹھان کوٹ میں واقع ایئر فورس بیس میں گھس آئے تھے اور اندھادھندفائرنگ شروع کر دی تھی جس میں 7 افراد ہلاک ہوئے تھے۔تقریباَ 80 گھنٹے تک سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد ان دہشت گردوں کو مار گرایا گیا تھا۔این ڈی ٹی وی کے مطابق سیکورٹی میں معاملہ کی تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ ملک بھرکے3000 سے بھی زیادہ حساس فوجی اڈوں میں حفاظتی انتظامات کو مزید پختہ کئے جانے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لئے 2000 کروڑ روپے کی مانگ کی گئی۔لیکن ذرائع کے مطابق ابھی تک اس معاملے میں حکومت نے ایک روپے کی بھی منظوری نہیں دی۔پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل فلپ یپوس کی قیادت والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ سونپی جس کے مطابق سب سے زیادہ حساس فوجی اڈوں کی نشاندہی کی گئی تھی جس کے مطابق سیکورٹی کے نظام کو چاق چوبند کئے جانے کی ضرورت تھی۔بری فوج کے تین رکن اور فضائیہ اور بحریہ کے ایک ایک رکن اس کمیٹی کا حصہ تھے۔ فوج کے تینوں اعضاء نے تقریباََ2000 کروڑ روپے کی ضرورت بتائی، جس میں بری فوج نے 1000 کروڑ روپے کی فوری ضرورت بتائی تاکہ کام شروع کیا جا سکے، لیکن پٹھان کوٹ حملے کے 14 ماہ گزر جانے کے بعد بھی انہیں پیسوں کا انتظار ہے۔رپورٹ کے مطابق، فوج نے فوجی اڈوں کی باؤنڈری اور سنتری پوسٹو کو مضبوط کرنے، سینسرس لگانے، کیمرے، داخل رکاوٹ اور میٹل ڈیٹیکٹر لگانے کا کام شروع کرنے کے لئے اپنے اندرونی فنڈ سے تقریباََ 325 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔ذرائع کہتے ہیں کہ فوج کی منصوبہ بندی تیار ہے، لیکن بغیر پیسوں کے وہ اس پر کارروائی نہیں کر سکتی۔ ان میں سے کچھ ہیں تمام فوجی یونٹوں کو سیکورٹی آڈٹ، کثیر سطح تحفظ، اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیزر انسٹال کرنا، حفاظت کی منصوبہ بندی میں فیملی کوارٹر کو بھی شامل کرنا، کثیر سطح اور کہیں بہتر فریم سیکورٹی شامل ہیں۔